بھٹکل 31/جنوری (ایس او نیوز) بھٹکل کے اوپری علاقہ نئے سنتے مارکٹ کے قریب تعمیر نئی مچھلی مارکٹ کی مخالفت کرتے اور پرانی مچھلی مارکٹ کو ہی بحال رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج جمعرات کو مچھلیوں کے کاروباریوں نے" بھٹکل تعلقہ مینو گاررو متّو مینو ماراٹا گاررو سنگھا" کے بینر تلے پرانی مچھلی مارکٹ سے اسسٹنٹ کمشنر دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی اور بعد میں اسسٹنٹ کمشنر دفتر میں جمع ہوکر پرانی مچھلی مارکٹ کو ہی بحال رکھنے کے نعرے لگاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے نام میمورنڈم پیش کیا۔
احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ ہم سالہا سال سے پرانے بس اسٹائنڈ کے قریب واقع مچھلی مارکٹ میں مچھلیوں کا کاروبار کرتے آئے ہیں، جہاں آٹو رکشہ کی سہولت، قریب میں ہی اسپتال، ترکاری مارکٹ، اسٹیشنری کی دکانیں وغیرہ موجود ہیں اور یہاں لوگوں کی بہت زیادہ چہل پہل ہے، اس کے مقابلے میں جس مقام پر نئی مچھلی مارکٹ تعمیر کی گئی ہے، وہاں لوگوں کو آنے جانے کی بہتر سہولیات نہیں ہیں اور اوپری مقام پر ہونے کی وجہ سے لوگوں کا اُس طرف آنا آسان نہیں ہے۔ احتجاجیوں نے بتایا کہ پرانے علاقوں اور پرانے محلوں کے لوگ مچھلیوں کی خریداری کے لئے نئی مچھلی مارکٹ میں آنے کے بجائے چوتنی کی مچھلی مارکٹ میں جانے کو ترجیح دیں گے جس کے نتیجے میں ان کا بیوپار بے حد متاثر ہوگا۔
احتجاجیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی مچھلی مارکٹ کے مقابلے میں پرانی مچھلی مارکٹ کافی وسیع ا
ور بڑی ہے، جہاں سو سے زائد لوگ ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں جبکہ نئی مچھلی مارکٹ میں صرف 60 اسٹالس ہیں جو تمام مچھلی بیوپاریوں کے لئے ناکافی ہے۔ اسی طرح کی دیگر شکایتوں کے ساتھ مچھلی بیوپاریوں نے پرانی مارکٹ کو ہی بحال رکھنے اور اُسی عمارت کو مرمت کرکے مچھلی کا کاروبار کرنے کی اجازت دینے کی مانگ کی۔
اسسٹنٹ کمشنر کی غیر موجودگی میں دفتر کے ایک اہلکار نے میمورنڈم وصول کیا۔
اس موقع پر مچھلی کاروباریوں کے سنگھا کے صدر خواجہ حسن کلائی والا، نائب صدر کلیانی سریدھر موگیر، سکریٹری محمد ایوب ملباری، آصف اقبال، محمد صادق، ناصر، کلاوتی موگیر، گیریجا رمیش موگیر، دیوی موگیر، ناگما موگیر، سرینواس کھاروی سمیت سو سے زائد خواتین و دیگر عوام نے احتجاج میں حصہ لیا۔